اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان اب وزرائے خارجہ کی سطح کے مذاکرات ہونے والے ہیں۔ یہ مذاکرات ایرا ن اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان ہونے والے ایٹمی مذاکرات کا ہی حصہ ہيں کہ جن کا مقصد ایک جامع ایٹمی معاہدے کا حصول ہے۔ ایران اورگروپ پانچ جمع ایک کے درمیان مذاکرات اس سے قبل چوبیس نومبر دوہزار چودہ میں ہوئے تھے جو ایٹمی معاہدے پر منتج ہوسکتے تھے، لیکن یورینیم کی افزودگی اور پابندیاں منسوخ کئے جانے کے سلسلے میں اختلافات بالخصوص امریکہ کی زیادہ خواہی کے باعث معاہدے پر دستخط نہ ہوسکے۔ اس وقت یہ مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوگئے ہيں جبکہ امریکہ، اپنی پابندیوں اور دھمکی کی پالیسی کو جاری رکھ کر ایران کو ایٹمی مذاکرات میں پسپائي اختیارکرنے پرمجبور کرنا چاہتا ہے۔ ایران کے وزیرخارجہ جواد ظریف نے جا ن کیری سے اپنی ملاقات کے موقع پر ہمارے نمائندے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ہم مبھم اور ناقص معاہدے کو تسلیم نہیں کریں گے اور جب تک تمام مسائل پر اتفاق نہيں ہوجاتا اس وقت تک ہم کوئی بھی معاہدہ تسلیم نہيں کریں گے۔ امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے بھی کہا ہے کہ طرفین کو مطلوب بنیادی منصوبہ پیش نہ کئے جانے کی صورت میں، مارچ کے بعد مذاکرات جاری رکھنا لاحاصل ہوگا اس کے ساتھ ہی امریکی کانگریس نے دھمکی دی ہے کہ اگر فریقین اتفاق رائے تک نہ پہنچ سکے تو تہران پر نئی پابندیاں عائد کردی جائيں گی۔ جنیوا میں جاری مذاکرات دوسرے زاویہ سے بھی قابل اہمیت ہیں۔ ایران کے ایٹمی انرجی کے ادارے کے سربراہ علی اکبرصالحی بھی مذاکراتی ٹیم میں شامل ہوگئے ہیں اور امریکی وزیر توانائی ایرنسٹ مونیز کے ساتھ ان کی گفتگو سے، مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہونے کا پتہ چلتا ہے۔ مذاکراتی عمل میں آنے والے اس جوش وخروش سے پتہ چلتا ہے کہ جنیوا معاہدے کے تناظر میں ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان ہونے والے مذاکرات اور مشترکہ اقدام کے پروگرام پر عمل درآمد، اس وقت ایک نئے مرحلے میں پہنچ گیا ہے کہ جس کے لئے ایرانی ماہرین کے بقول اعلی سطح پر فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے۔
.......
/169